ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور سکیورٹی سے متعلق ایک اہم تزویراتی منصوبے کے عمومی خدوخال کی منظوری دے دی گئی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ منصوبہ ایرانی پارلیمنٹ کی کونسلز کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا گیا۔ ارکان کی آرا سننے کے بعد اس کے عمومی اصولوں کی منظوری دی گئی۔
منصوبے میں امریکا، اسرائیل اور بعض دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں اور آلات کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔
کمیٹی کے ترجمان ولی اللہ بیاتی نے ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کو بتایا کہ اجلاس میں آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کی سکیورٹی اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے تیار کردہ تزویراتی ایکشن پلان کا جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے مختلف ارکان کی رائے کے بعد منصوبے کے عمومی خاکے کی منظوری دی ہے۔ تاہم اس منصوبے کی حتمی منظوری اور عملی نفاذ کے لیے ابھی مزید مراحل باقی ہیں۔






