تل ابیب (آئی این پی) اسرائیلی فوج نے بغاوت کے خدشے کے پیش نظر 14 اہلکاروں کو جنگی ڈیوٹی سے برطرف کر دیا اور انہیں سزا کے طور پر ایک ماہ کے لیے فوجی جیل بھیج دیا گیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ گیواتی بریگیڈ کی ٹزابر بٹالین کے اہلکاروں کو 30 روز کے لیے فوجی جیل بھیج دیا گیا، جو جمعرات کو جنوبی اسرائیل میں سدی تیمان فوجی بیس پر اجتماعی طور پر بغیر اجازت ڈیوٹی چھوڑنے کے واقعے میں ملوث تھے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق گیواتی بریگیڈ کے کمانڈر نے ان فوجیوں کو جنگی ڈیوٹی سے مستقل طور پر برطرف کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے درجنوں اہلکاروں نے نظم و ضبط بحال کرنے کی کوشش کرنے والے ایک سینئر کمانڈر کے ساتھ تنازع پر اپنے ہتھیار چھوڑ کر فوجی بیس سے واک آؤٹ کیا تھا۔
مزید بتایا گیا کہ اس فوجی بیس پر تعینات اہلکاروں پر قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں، جن میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک بھی شامل ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق کمانڈ اسٹاف نے فیصلہ کیا تھا کہ بٹالین کی کمپنیوں کی جانب سے آویزاں کیے گئے نشانات اتار کر تباہ کیے جائیں، جبکہ کمانڈر نے فوجیوں کی مخالفت کے باوجود اس فیصلے پر عملدرآمد پر زور دیا۔
رپورٹ کے مطابق جب دونوں فریق کسی اتفاق رائے پر نہ پہنچ سکے تو فوجیوں نے یونٹ چھوڑ دیا اور فوجی بیس سے واک آؤٹ کر دیا۔






