فیفا ورلڈ کپ پر بڑا تنازع، بائیکاٹ کی دھمکی دے دی گئی

یورپی فٹبال کی گورننگ باڈی یوئیفا نے فیفا کے مجوزہ نجی سرمایہ کاری منصوبے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ورلڈ کپ اور دیگر بڑے مقابلوں میں نجی سرمایہ کاروں کو شراکت داری دی گئی تو یورپی ٹیمیں فیفا کے کسی بھی ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لیں گی۔

یوئیفا نے اپنے بیان میں کہا کہ فیفا ورلڈ کپ فٹبال کا تاریخی ورثہ ہے اور اسے سرمایہ کاری کی مصنوعات میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ تنظیم نے واضح کیا کہ ورلڈ کپ فروخت کے لیے نہیں ہے اور اس کے کسی بھی حصے کو نجی ملکیت میں نہیں دیا جانا چاہیے۔

چند روز قبل فیفا نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے بڑے تجارتی ایونٹس، جن میں ورلڈ کپ اور کلب ورلڈ کپ شامل ہیں، کے انتظام کے لیے ایک نئی کمرشل ذیلی کمپنی قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت نجی سرمایہ کاروں کو کمپنی میں اقلیتی حصص خریدنے کی اجازت دی جائے گی۔ فیفا کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے تقریباً 4.2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ منصوبے کی مجموعی مالیت 20 ارب ڈالر لگائی گئی ہے۔

فیفا کے مطابق اگر یہ منصوبہ منظور ہو گیا تو 2027 کے آغاز میں اس کے 211 رکن ممالک کو ایک مرتبہ 2 کروڑ ڈالر فراہم کیے جائیں گے، جبکہ 2027 سے 2030 تک سالانہ مالی معاونت بھی 80 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 2 کروڑ ڈالر کر دی جائے گی۔

دوسری جانب فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے اس منصوبے کو عالمی سطح پر فٹبال کی ترقی کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا ہے، تاہم یوئیفا کے علاوہ کئی یورپی فٹبال فیڈریشنز، یورپی یونین کے حکام، کونکاکاف، ایشین فٹبال کنفیڈریشن اور افریقی فٹبال کنفیڈریشن نے بھی اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اہم فیصلے سے قبل تمام رکن ممالک سے مؤثر مشاورت نہیں کی گئی، جبکہ اس سے فٹبال میں تجارتی مفادات اور مفادات کے ٹکراؤ کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔