لاہور (آئی این پی): پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل شفاف انتخابات کے حوالے سے بیانات دینے والے آج خود متنازع سرگرمیوں میں ملوث نظر آ رہے ہیں۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ میرپور کے عوام نے احتجاج اور انتشار کے بجائے ووٹ کی طاقت پر اعتماد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض پولنگ کیمپوں میں غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہیں، جبکہ کل دھاندلی کے خلاف بیانات دینے والوں کا اصل چہرہ آج قوم کے سامنے آ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام ووٹ ڈالتے وقت پنجاب حکومت کی کارکردگی کا ذکر کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں بھی “اپنی چھت، اپنا گھر” اور “اپنا روزگار” جیسے فلاحی منصوبوں سے فائدہ پہنچے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے کشمیر کے عوام کے سامنے اپنی کارکردگی رکھی ہے اور کسی سیاسی جماعت کے خلاف منفی مہم نہیں چلائی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب آج ترقی اور عوامی خدمت کا ایک کامیاب ماڈل بن چکا ہے اور حکومت عوامی فلاح کے منصوبوں کا دائرہ مزید وسیع کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، صرف دعوؤں سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
نواز شریف کے آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے سے متعلق بیان پر وضاحت دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ ایک علامتی اظہار تھا۔ ان کے مطابق جس طرح نواز شریف پاکستان اور پنجاب کی قیادت کی سرپرستی کر رہے ہیں، اسی طرح اگر آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنتی ہے تو وہ وہاں بھی رہنمائی کا کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو کسی عہدے یا منصب کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کا سیاسی تجربہ اور عوامی مقبولیت انہیں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔






