لاہور (آئی این پی): صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے پیپلز پارٹی کی حالیہ پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تنقید کرنی ہے تو تعلیم، صحت اور عوامی خدمت کے شعبوں میں کارکردگی پر کی جائے، محض سیاسی بیانات سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا سکندر حیات نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے دو روز قبل لاہور میں پاور شو کیا، تاہم وہاں موجود بعض کارکنوں کو اپنے چیئرمین کے بارے میں بھی علم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہوتا اگر پیپلز پارٹی تعلیم، صحت، کچے کے علاقوں یا دیگر عوامی مسائل پر بات کرتی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے تعلیمی نظام سے دیگر صوبوں کے طلبہ بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی اپنی کارکردگی پر بات کرنا چاہتی ہے تو سندھ میں تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جائے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت نے پہلے مرحلے میں 5,700 سرکاری اسکول آؤٹ سورس کیے، جہاں 5 لاکھ 30 ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں اور طلبہ کی تعداد میں 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے کو محفوظ اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
رانا سکندر حیات نے “ستھرا پنجاب” پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے تحت صفائی کے نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر صوبوں کو بھی ایسے عوامی فلاحی منصوبوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر پیپلز پارٹی نے اپنے دورِ حکومت میں تعلیم یا صحت کے شعبے میں مؤثر اصلاحات کی ہیں تو ان پر بات کی جائے۔ ان کے مطابق کراچی میں بنیادی انفراسٹرکچر کے مسائل اب بھی برقرار ہیں، جبکہ پنجاب میں امتحانی نظام کو مزید شفاف بنایا گیا ہے اور پہلی مرتبہ 50 لاکھ امتحانی پرچے جدید طریقہ کار کے تحت چیک کیے گئے ہیں تاکہ طلبہ کو شفاف نتائج فراہم کیے جا سکیں۔
صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ پنجاب حکومت طلبہ کو معیاری اور مفت اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے تعلیمی اصلاحات کا عمل جاری رہے گا۔






