نیویارک شہر کے میئر زہران ممدانی نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق اپنے سابق مؤقف میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیویارک سٹی انتظامیہ کے پاس بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے گرفتاری وارنٹ پر عملدرآمد کا قانونی اختیار موجود نہیں۔
ممدانی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کی انتظامیہ نے متعلقہ قوانین کا جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اگر نیتن یاہو نیویارک کا دورہ کریں تو کیا شہر کی پولیس آئی سی سی کے وارنٹ پر عمل کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق قانونی جائزے کے بعد واضح ہوا کہ نیویارک سٹی کو ایسا اختیار حاصل نہیں، اس لیے مقامی پولیس نیتن یاہو کو گرفتار نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ نیتن یاہو کو نیویارک میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا، تاہم اس معاملے میں کارروائی کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہو سکتا ہے۔ ممدانی نے امریکی حکومت پر زور دیا کہ اگر وہ چاہے تو اس حوالے سے اقدامات کر سکتی ہے۔
یہ بیان ممدانی کے اس سابق مؤقف کے برعکس ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ آئی سی سی کے وارنٹ پر عملدرآمد کی کوشش کریں گے۔ اس معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ نیتن یاہو کو امریکا میں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
ممدانی نے 2025 کی انتخابی مہم کے دوران فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہوئے نیتن یاہو کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ ایک مقامی میئر کے پاس کسی غیر ملکی سربراہ حکومت کو آئی سی سی کے وارنٹ کی بنیاد پر گرفتار کرنے کا اختیار نہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ممدانی کے تازہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سیاسی مشکلات سے توجہ ہٹانے کے لیے اسرائیلی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






