//

معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر بھائی سمیت گرفتار

امریکا میں سوشل میڈیا کی متنازع شخصیت اور سابق کک باکسر اینڈریو ٹیٹ اور ان کے بھائی ٹرسٹن ٹیٹ کو امریکی حکام نے فلوریڈا کے شہر میامی سے گرفتار کر لیا ہے۔ دونوں بھائیوں کے خلاف برطانیہ کے کراؤن پراسیکیوشن سروس (سی پی ایس) نے نئے فوجداری الزامات کے تحت مقدمات چلانے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد برطانوی حکام ان کی حوالگی (ایکسٹراڈیشن) کی کوشش کر رہے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی مارشلز سروس نے ہفتے کے روز دونوں بھائیوں کو حراست میں لیا، جبکہ برطانیہ کے کراؤن پراسیکیوشن سروس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران چار مزید مبینہ متاثرین سامنے آنے کے بعد اینڈریو اور ٹرسٹن ٹیٹ کے خلاف مزید مقدمات قائم کیے جائیں گے۔ یہ الزامات جولائی 2010 سے اگست 2017 کے درمیان برطانیہ میں پیش آنے والے مبینہ واقعات سے متعلق ہیں۔

سی پی ایس کے مطابق 39 سالہ اینڈریو ٹیٹ اور 38 سالہ ٹرسٹن ٹیٹ کو عصمت دری، جنسی استحصال کے لیے انسانی اسمگلنگ میں معاونت، جسمانی نقصان پہنچانے اور بچوں کی نامناسب تصاویر سے متعلق جرائم جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔

برطانیہ کے کراؤن پراسیکیوشن سروس کے اسپیشل کرائم ڈویژن کے سربراہ میلکم میک ہیفی نے کہا کہ نئے شواہد اور مزید مبینہ متاثرین کی نشاندہی کے بعد دونوں بھائیوں کے خلاف اضافی مقدمات چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اینڈریو اور ٹرسٹن ٹیٹ امریکا اور برطانیہ دونوں کی شہریت رکھتے ہیں اور اس سے قبل بھی مختلف ممالک میں قانونی کارروائیوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ دسمبر 2022 سے وہ رومانیہ میں بھی متعدد الزامات کے سلسلے میں تحقیقات کی زد میں ہیں۔

دونوں بھائیوں نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا اور وہ کسی بھی جرم میں ملوث نہیں ہیں۔

اینڈریو ٹیٹ سوشل میڈیا پر مردانگی، دولت اور کامیابی سے متعلق اپنے متنازع خیالات کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں، تاہم ان کے متعدد بیانات کو خواتین مخالف قرار دیا جاتا رہا ہے۔ ماضی میں وہ خود بھی اپنے آپ کو “خواتین مخالف” قرار دے چکے ہیں، جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

رواں برس برطانیہ میں چار خواتین نے اینڈریو ٹیٹ کے خلاف ایک دیوانی مقدمہ بھی دائر کیا، جس میں الزام لگایا گیا کہ انہیں 2013 سے 2015 کے دوران جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ عدالت نے ان خواتین کی شناخت خفیہ رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے، جبکہ اینڈریو ٹیٹ نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ مؤکل کے خلاف تمام الزامات جھوٹے ہیں اور جنسی تعلقات دونوں فریقین کی رضامندی سے قائم ہوئے تھے۔

امریکی مارشلز سروس نے اس معاملے پر تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا، تاہم متعدد امریکی ذرائع ابلاغ نے دونوں بھائیوں کی میامی سے گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

اب یہ معاملہ امریکی عدالتی کارروائی اور برطانیہ کی جانب سے دائر کی جانے والی حوالگی کی درخواست پر ہونے والے فیصلے سے مشروط ہے۔ اگر برطانوی درخواست منظور ہو جاتی ہے تو اینڈریو اور ٹرسٹن ٹیٹ کو برطانیہ منتقل کر کے ان کے خلاف نئے مقدمات کی سماعت کی جائے گی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close