مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے سرمایہ کاروں کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے کہ اگر تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو عالمی منڈی کو ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز برینٹ خام تیل کے فیوچرز میں 2.37 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 90.19 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو ایک ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 2 فیصد سے زیادہ مہنگا ہو کر 84.20 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات بھی حملے کیے، جبکہ کویت اور بحرین نے بھی ایرانی حملوں کی اطلاعات جاری کی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکر دھماکوں کے بعد ناکارہ ہو گئے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ادھر برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے عمان کے علاقے کمزار کے شمال مغرب میں ایک بحری جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع دی ہے، جس سے سمندری نقل و حمل اور تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں خام تیل کی تقریباً 20 فیصد تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے اگر اس اہم بحری گزرگاہ میں کشیدگی برقرار رہی یا تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور توانائی کے نئے بحران کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز انتہائی اہم ہوں گے، کیونکہ انہی دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی کس حد تک متاثر ہوتی ہے اور عالمی منڈیاں اس صورتحال پر کس نوعیت کا ردِعمل ظاہر کرتی ہیں۔
دوسری جانب حکومت نے حالیہ نظرثانی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے 44 پیسے اضافے کے بعد نئی قیمت 316 روپے 15 پیسے مقرر کی گئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو گیا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں




