مستقل معذوری (میڈیکل انویلڈیشن) کی بنیاد پر ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے زیر التواء کنٹریکٹ تقرریوں کے کیسز جلد نمٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت مقررہ شرائط پوری کرنے والے ریٹائر ملازمین کے شریک حیات یا ایک بچے کو کنٹریکٹ پر ملازمت فراہم کی جا سکے گی۔
ایف بی آر کی ہدایات کے مطابق میڈیکل انویلڈیشن پالیسی کے تحت مستقل معذوری کے باعث ریٹائر ہونے والے ملازمین کے اہل خانہ کی کنٹریکٹ تقرریوں سے متعلق تمام زیر التواء کیسز فوری طور پر ہیڈکوارٹر بھجوائے جائیں۔ اس مقصد کے لیے تمام ڈائریکٹر جنرلز، چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو اور متعلقہ فیلڈ فارمیشنز کو ایک ماہ کے اندر کیسز مکمل کرکے ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پالیسی کے مطابق ریٹائر ہونے والے ملازم کے شریک حیات یا ایک بچے کو کنٹریکٹ ملازمت کے لیے درخواست دینے کا حق حاصل ہوگا، تاہم درخواست ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے ایک سال کے اندر جمع کرانا لازمی ہوگا۔
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ ہر درخواست کی جانچ پڑتال اور تصدیق متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کمشنر ان لینڈ ریونیو (ADCIR) یا ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو (DCIR) ہیومن ریسورسز کرے گا، جس کے بعد کیس مزید کارروائی کے لیے ہیڈکوارٹر بھیجا جائے گا۔
درخواست کے ساتھ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ، ریٹائرمنٹ آرڈر، باقاعدہ درخواست، تعلیمی اسناد، قومی شناختی کارڈ، ڈومیسائل اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) جمع کرانا ضروری ہوگا۔ اس کے علاوہ متعلقہ افسران کی جانب سے یہ تصدیق بھی فراہم کرنا ہوگی کہ خاندان کے کسی دوسرے فرد کو پہلے ہی اس پالیسی کے تحت ملازمت نہیں دی گئی۔
ایف بی آر نے تمام ڈائریکٹوریٹس، لارج ٹیکس آفسز (LTOs)، ریجنل ٹیکس آفسز (RTOs)، کارپوریٹ ٹیکس آفسز (CTOs) اور میڈیم ٹیکس آفسز (MTOs) کو ہدایت کی ہے کہ زیر التواء کیسز کی مکمل فہرست مرتب کرکے مقررہ مدت کے اندر ہیڈکوارٹر ارسال کریں تاکہ درخواستوں پر جلد از جلد فیصلہ کیا جا سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






