امریکا اور ایران کے درمیان مسلسل پانچویں رات بھی حملوں کا تبادلہ
امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کے فوجی اہداف پر مسلسل پانچویں رات بھی حملے کیے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، امریکی افواج نے ایران میں تازہ کارروائی کے دوران کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات سمیت بندر عباس اور دیگر مقامات پر اہداف کو نشانہ بنایا۔
رپورٹس کے مطابق، گریٹر تنب جزیرے پر ساحلی دفاعی تنصیبات اور کروز میزائل سائٹس بھی حملوں کی زد میں آئیں۔ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں 7 اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ ایران کے مطابق، سیستان و بلوچستان کے علاقے بامپور میں واقع ایک فوجی چھاؤنی پر بھی حملہ کیا گیا، جہاں ایک بیرک کو 13 میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب، پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے کویت میں واقع علی السالم ایئر بیس پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے مشترکہ حملہ کیا۔ ایرانی حکام کے مطابق، کارروائی کے دوران سی-رام (C-RAM) ابتدائی انتباہی ریڈار اور امریکی فوجیوں کے اجتماع کے مقام کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے کویت کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، اور کویتی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ملک سے امریکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کریں۔
مزید برآں، ایران نے اردن کے ازرق ایئر بیس پر امریکی تنصیبات پر ڈرون حملے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق، اس کارروائی میں امریکی مواصلاتی نظام، ریڈار سائٹ اور ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا، اور یہ حملہ ایران پر حالیہ امریکی کارروائیوں کے ردعمل میں کیا گیا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






