//

امریکا کا ایران پر نئے حملے شروع کرنے کا اعلان

سینٹ کام کا ایران میں فوجی کارروائی مکمل کرنے کا دعویٰ، تہران کا فوری ردعمل سامنے نہ آ سکا

امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 15 جولائی کی صبح ایران میں اپنی فوجی کارروائی مکمل کر لی ہے۔ سینٹ کام کے مطابق کارروائی امریکی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 7 بجے اختتام پذیر ہوئی اور تقریباً 90 منٹ تک جاری رہی۔

سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کارروائی کے دوران گریٹر تنب جزیرے پر ایران کے ساحلی دفاعی نظام، کروز میزائل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور میزائل لانچنگ مقامات کو جدید اور انتہائی درست ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوج کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی اس عسکری صلاحیت کو مزید محدود کرنا تھا جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ کارروائی کے بعد ایران کی بحری جہاز رانی کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت مزید کمزور ہو گئی ہے۔

تاہم ایران کی جانب سے امریکی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ان حملوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہو سکی ہے۔

اس سے قبل سینٹ کام نے اعلان کیا تھا کہ بدھ کی صبح ایران میں نئی فوجی کارروائی کا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد ان فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنانا تھا جنہیں امریکا کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان حملوں میں این ایس آئی مینجمنٹ سینٹر، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، فوجی سازوسامان کے گوداموں اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا۔

تاہم امریکا یا بحرین کی جانب سے ان دعوؤں کی فوری طور پر تصدیق یا تردید نہیں کی گئی، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی ان حملوں کے نتائج کی توثیق نہیں ہو سکی۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ کشیدگی کے باعث خطے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ بحرین اور کویت میں ممکنہ میزائل حملوں کے خطرے کے پیش نظر الرٹس بھی جاری کیے گئے، جبکہ مختلف ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات کے قریب ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

ادھر ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں میں 30 سے زائد شہری جاں بحق اور 260 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ایران کی وزارت صحت کے مطابق زخمیوں میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد افراد کو طبی امداد کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے امریکا کے ساتھ نیا معاہدہ نہ کیا تو مزید سخت فوجی کارروائیاں کی جائیں گی۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، تاہم اس بیان پر ایران کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close