بلاول بھٹو: افواجِ پاکستان ہماری ریڈ لائن ہیں، ان کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کی جائے گی
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ افواجِ پاکستان ان کی جماعت کی ریڈ لائن ہیں اور ان کے خلاف ملک کے کسی بھی حصے، بشمول آزاد کشمیر، سے اٹھنے والی کسی بھی آواز کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
مظفرآباد میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر کوئی کشمیریوں کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرے تو ہمیں دکھ ہوتا ہے، اسی طرح اگر کوئی پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف بات کرے تو اسے بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج، جس نے ان کے بقول گزشتہ سال “معرکۂ حق” میں بھارت کو شکست دی، قومی سلامتی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوام کو حقوق دینے پر یقین رکھتی ہے، جبکہ دیگر قوتیں عوامی حقوق سلب کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم پرتشدد احتجاج کسی صورت قابل قبول نہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام خود کریں گے، لیکن بندوق یا دھرنوں کے ذریعے آئینی تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ آزاد کشمیر میں موجودہ بحران کا حل سیاسی مکالمے، دانشمندی اور عوامی اعتماد کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں کشیدگی سے نہ صرف پاکستان کی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ کشمیر کاز کو بھی نقصان پہنچے گا۔ ان کے مطابق موجودہ بحران وفاقی وزرا کے بعض بیانات کے باعث پیدا ہوا، اس لیے وفاقی حکومت کو ہی اس کے حل کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھے کسی فرد کو یہ اختیار نہیں کہ وہ فیصلہ کرے کہ کون کشمیری ہے اور کون نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ معاملہ فہمی اور مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہیں۔
انہوں نے مظاہرین سے احتجاج اور دھرنے ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ آزاد کشمیر میں تشدد یا دہشت گردی کی سیاست فروغ پائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقین کو مل بیٹھ کر مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا چاہیے۔
بلاول بھٹو نے ایک بار پھر کہا کہ افواجِ پاکستان ان کی جماعت کی ریڈ لائن ہیں اور ریاست کو کوئی بھی طاقت سرنگوں نہیں کر سکتی۔ انہوں نے امن کے قیام میں فیلڈ مارشل کے کردار کو بھی سراہا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






