//

بلاول بھٹو زرداری کا آزاد کشمیر میں ڈیرے ڈالنے کا اعلان، انتخابی مہم کی قیادت خود سنبھال لی

مظفرآباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین **بلاول بھٹو زرداری** کی زیر صدارت مظفرآباد میں آزاد جموں و کشمیر کے ریاستی حکام، پارٹی عہدیداروں اور ٹکٹ ہولڈرز کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ عام انتخابات، انتخابی مہم، عوامی مسائل اور آئینی و سیاسی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ سابق وزیراعظم پاکستان **راجہ پرویز اشرف**، قائم مقام صدر آزاد کشمیر **چوہدری لطیف اکبر**، صدر پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر **چوہدری محمد یاسین**، وزیراعظم آزاد کشمیر **فیصل ممتاز راٹھور**، سینئر وزیر **میاں عبدالوحید** سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔

پارٹی رہنماؤں نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو آزاد کشمیر میں انتخابی مہم پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیپلز پارٹی پورے آزاد کشمیر میں بھرپور انداز میں انتخابی مہم چلا رہی ہے، ہر انتخابی حلقے میں امیدوار متحرک ہیں اور **بھمبر سے تاؤ بٹ تک صرف پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی سرگرمیاں نمایاں دکھائی دے رہی ہیں۔**

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ **پاکستان پیپلز پارٹی ہر دور میں کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔** انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر آنے سے قبل انہوں نے نائب وزیراعظم سے عوام کو درپیش رسد و فراہمی کے مسائل کے حل پر بات کی ہے۔

انہوں نے احتجاجی تحریک کے حوالے سے کہا کہ **30 روزہ احتجاج اپنی مثال آپ ہے، مگر احتجاج ہمیشہ نہیں چلتے، اب وقت آ گیا ہے کہ احتجاج ختم کرکے مذاکرات کی میز پر آ کر مسائل کا حل نکالا جائے۔** ان کا کہنا تھا کہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ انتہاپسندانہ رویوں سے حقوق حاصل نہیں ہوتے بلکہ آئینی اور جمہوری نظام کے اندر رہ کر جدوجہد ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے انتخابی عمل کے بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری عمل میں حصہ لینا ہی عوامی نمائندگی کا صحیح راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر نام کے اعتبار سے آزاد ہے مگر عملی طور پر وفاقی گرانٹس پر انحصار کرتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ یہاں کے آئینی اور انتظامی اختیارات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ **آزاد کشمیر وفاقی حکومت کی ایک وزارت کے ماتحت جوابدہ ہے یا اپنے منتخب وزیراعظم کے؟**

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آزاد کشمیر کے نوجوان اسٹیٹس کو سے مطمئن نہیں ہیں، ان کی امیدوں اور امنگوں کو پورا کرنا تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے، بصورت دیگر انتشار پسند قوتیں اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

انہوں نے قومی اسمبلی میں آزاد کشمیر کی **عبوری مبصر نمائندگی** دینے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کشمیری عوام کی آواز قومی سطح پر مؤثر انداز میں پہنچ سکے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر **این ایف سی** میں بھی آزاد کشمیر کی نمائندگی ہوتی تو وہاں کے عوام کے حقوق کے لیے مؤثر آواز اٹھائی جا سکتی تھی۔

بلاول بھٹو زرداری نے انتخابات کے بعد کشمیر سے متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک **آئینی فورم** کے قیام کی تجویز بھی دی تاکہ کشمیری عوام اپنی سیاسی اور آئینی ترجیحات پر خود فیصلہ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وسائل اور دیگر سیاسی جماعتوں سے اتفاق رائے کے دائرے میں رہتے ہوئے آزاد کشمیر حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے مطالبات **سو فیصد پورے کیے** ہیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر بلاول بھٹو زرداری نے واضح اعلان کیا کہ **وہ آزاد کشمیر میں ایم کیو ایم اور الطاف حسین طرز کی سیاست نہیں دیکھنا چاہتے** اور یہ بھی اعلان کیا کہ **آزاد کشمیر کے انتخابات تک وہ کہیں نہیں جائیں گے بلکہ انتخابی مہم کی نگرانی کے لیے آزاد کشمیر میں ہی قیام کریں گے۔**

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close