//

سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملہ

سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے کا دعویٰ

یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے جنوبی شہر ابہا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

الجزیرہ کے مطابق حوثیوں کے فوجی ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ یہ کارروائی صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کے ردِعمل میں کی گئی۔ ترجمان نے بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کو بھی خبردار کیا کہ وہ سعودی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کریں اور ان کی تنبیہ کو سنجیدگی سے لیں۔

دوسری جانب سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے جنوبی علاقے کی جانب داغے گئے تمام بیلسٹک میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے۔ سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے ترجمان کے مطابق حملہ ناکام بنا دیا گیا اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس سے قبل یمن کی سعودی حمایت یافتہ، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے صنعاء کے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رن وے کو نشانہ بنایا تھا۔ یمنی وزارتِ دفاع کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایک ایرانی طیارے کو وہاں اترنے سے روکنا تھا، تاہم بعد ازاں بتایا گیا کہ متعلقہ طیارہ حوثیوں کے زیرِ انتظام حدیدہ ہوائی اڈے پر اتر گیا۔

صنعاء ایئرپورٹ پر حملے کے بعد حوثیوں نے اس کارروائی کو “کھلی جارحیت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کئی برس سے جاری نسبتاً پرسکون صورتحال اب ختم ہو چکی ہے اور سعودی عرب کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان 2022 میں ہونے والی جنگ بندی بڑی حد تک برقرار رہی ہے، تاہم حالیہ حملوں اور جوابی کارروائیوں نے اس نازک امن کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام اور سعودی عرب کی تیل برآمدات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close