میزائل اور ڈرون حملے،کئی ہلاکتیں اوردرجنوں زخمی ہو گئے

روس نے یوکرین پر میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز سے تازہ حملے کرتے ہوئے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ دوسری جانب یوکرین نے بھی بحیرہ آزوف میں روسی فوجی لاجسٹکس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

یوکرینی حکام کے مطابق شمالی شہر سومی میں دو گلائیڈ بم گنجان آباد علاقے پر گرے، جس سے 5 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے۔ ایک بم بس اسٹاپ پر گرا، جس سے مسافر بس اور قریبی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ سومی کے سرحدی علاقے میں ایک شخص بارودی مواد پر پاؤں پڑنے سے جان کی بازی ہار گیا۔ جنوبی بندرگاہی شہر اوڈیسا میں میزائل حملے سے 2 افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوا، زاپوریژیا میں گلائیڈ بم حملے میں 10 افراد زخمی ہوئے، جبکہ خارکیف میں ڈرون حملے کے نتیجے میں 7 افراد زخمی ہوگئے۔

یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بھی رات گئے بڑے پیمانے پر حملہ کیا گیا، جہاں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔ حکام کے مطابق حملے میں 12 افراد زخمی ہوئے۔ یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ روس نے مجموعی طور پر 6 بیلسٹک میزائل، 6 کروز میزائل اور 121 ڈرون داغے، جن میں سے 2 کروز میزائل اور 111 ڈرون مار گرائے گئے، تاہم بیلسٹک میزائلوں کو روکنا ممکن نہ ہو سکا۔

صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو فضائی دفاعی نظام کے لیے فوری طور پر مزید اسلحہ اور گولہ بارود درکار ہے۔ انہوں نے اتحادی ممالک پر زور دیا کہ دفاعی معاہدوں، خصوصاً امریکا کے ساتھ پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی مقامی پیداوار سے متعلق معاہدے پر تیزی سے عملدرآمد کیا جائے۔

دوسری جانب روس کے زیر قبضہ ڈونیٹسک کے سربراہ ڈینس پوشیلن نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی ڈرون حملے میں ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس سے ایک شخص ہلاک ہوگیا، جبکہ بحیرہ آزوف کے قریب ایک بس پر ڈرون حملے میں 9 افراد زخمی ہوئے۔

یوکرین نے بھی روسی فوجی رسد کو نقصان پہنچانے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ یوکرینی ڈرون فورسز کے سربراہ رابرٹ بروودی کے مطابق بحیرہ آزوف میں رات گئے 21 فیول ٹینکرز اور 7 دیگر کارگو و معاون جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ رواں ہفتے اب تک 76 روسی جہازوں پر حملے کیے جا چکے ہیں۔

روسی حکام کے مطابق بحیرہ آزوف کے علاقے ٹیگانروگ بے میں چار جہازوں، جن میں میتھانول لے جانے والا ایک ٹینکر بھی شامل تھا، پر ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔

صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روسی فوجی لاجسٹکس پر حملوں کا مقصد ماسکو کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے، تاہم روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے تاحال اپنے مؤقف میں نرمی کے کوئی آثار سامنے نہیں آئے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close