امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ طور پر یہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے مختلف ممالک کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو روز سے حملوں کا سلسلہ بھی تھم گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق قطر، پاکستان، مصر اور سعودی عرب کے حکام نے کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکی اور ایرانی حکام سے ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ثالثی کے عمل میں شریک ذرائع کے مطابق تناؤ میں کمی کی کوششیں جاری ہیں تاکہ تکنیکی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے کی جا سکے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے اور امریکا نے اس پر اتفاق کر لیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے واضح کر دیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، تاہم خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں کمی لانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران نے مذاکرات کی درخواست سے متعلق امریکی صدر کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کی کوئی درخواست نہیں کی۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران نے امریکا سے مذاکرات کی درخواست نہیں کی، تاہم قطری ثالثوں کا دورۂ ایران قبول کیا گیا تھا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کا مناسب اور اسی زبان میں جواب دیا جائے گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






