کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے راولاکوٹ میں آزاد جموں و کشمیر پولیس کے 4 اہلکاروں کو اغوا کر لیا۔
راولاکوٹ دھرنے میں عوام کی عدم دلچسپی کے باعث کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی، دھرنے کی واضح ناکامی کے بعد شرپسند عناصر اب قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور انتشار پھیلانے پر اتر آئے۔ سرغنہ خواجہ مہران اور اس کے کارندے راولاکوٹ کا پرامن ماحول خراب کرنے کیلیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔
سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاہد شفیق، محمد صغیر، کانسٹیبل محمد اشتیاق اور ذیشان اسحاق کو اغوا کیا گیا، انتشاری کمیٹی کے شرپسندوں نے 4 اہلکاروں کو گھر سے ڈیوٹی کیلیے راولاکوٹ جاتے ہوئے اغوا کیا۔ آزاد جموں و کشمیر پولیس کے 4 اہلکار اب بھی انتشاری کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسند عناصر کی حراست میں ہیں ۔
شرپسندوں نے اے ایس آئی کو اغوا کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا، یہی ٹولہ سی ایم ایچ پر بھی حملہ آور ہوا تھا۔ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی مجرمانہ سرگرمیوں سے ان کی اپنی پارٹی کے ممبران اور آزاد کشمیر کے باشعور عوام انہیں مکمل رد کر چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مذموم عزائم سامنے آنے کے بعد عوام بیرونی ایما پر چلنے والی اس انتشاری تحریک کو مکمل طور پر مسترد کر چکے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






