پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کیسے بنتی ہے؟ لیوی، ٹیکس اور مارجن کی تفصیلات سامنے آگئیں

پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر عائد لیوی، ٹیکس اور مختلف مارجنز کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بڑا حصہ حکومتی ٹیکسوں، لیویز اور دیگر چارجز پر مشتمل ہے۔

دستاویز کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول کی اصل لاگت 178 روپے 77 پیسے بنتی ہے، تاہم اس پر مجموعی طور پر 118 روپے 76 پیسے کے ٹیکس، لیوی اور مارجنز عائد کیے جا رہے ہیں، جس کے بعد صارفین کے لیے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 297 روپے 53 پیسے مقرر کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول پر 70 روپے 36 پیسے پٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور 19 روپے 33 پیسے کسٹمز ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن کی مد میں 6 روپے 86 پیسے، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن کے طور پر 7 روپے 87 پیسے اور ڈیلرز مارجن کی مد میں 8 روپے 64 پیسے بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی اصل لاگت 198 روپے 85 پیسے فی لیٹر ہے، جبکہ اس پر عائد مختلف ٹیکسوں، لیویز اور مارجنز کے بعد صارفین کے لیے اس کی قیمت 309 روپے 50 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق ایک لیٹر ڈیزل پر مجموعی طور پر 110 روپے 65 پیسے کے لیوی، ٹیکس اور مارجنز وصول کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حکومتی ٹیکسوں اور لیویز کا تناسب بہت زیادہ ہونے کے باعث عوام پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مقامی سطح پر صارفین کو مکمل ریلیف نہ ملنے کی ایک بڑی وجہ یہی ٹیکس اور اضافی چارجز ہیں، جو پٹرول اور ڈیزل کی حتمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close