لاہور: اوگرا کی جانب سے قیمت میں کمی کے اعلان کے باوجود ملک بھر میں ایل پی جی سرکاری نرخ پر دستیاب نہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ شہریوں اور رکشہ ڈرائیوروں نے مہنگی ایل پی جی کی فروخت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اوگرا نے جولائی کے لیے ایل پی جی کی قیمت میں 68 روپے کمی کرتے ہوئے نئی سرکاری قیمت 241 روپے 43 پیسے فی کلو مقرر کی، تاہم لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں ایل پی جی 450 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگی ایل پی جی نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ رکشہ ڈرائیوروں کے مطابق ایندھن کی بڑھتی لاگت کے باعث روزگار چلانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
ایل پی جی ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ انہیں پلانٹس سے ہی گیس 420 سے 450 روپے فی کلو تک ملتی ہے، اس لیے وہ سرکاری نرخ پر فروخت نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پلانٹس سے سرکاری نرخ پر گیس فراہم کی جائے تو وہ بھی اوگرا کی مقررہ قیمت پر فروخت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
دکانداروں نے الزام عائد کیا کہ کارروائیاں صرف چھوٹے ریٹیلرز کے خلاف کی جاتی ہیں، جبکہ سپلائی کرنے والے پلانٹس کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق پلانٹس رسید بھی جاری نہیں کرتے اور رسید کا مطالبہ کرنے پر گیس کی فراہمی روک دی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مختلف علاقوں میں ہر دکاندار اپنی خریداری لاگت کے مطابق قیمت مقرر کر رہا ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتوں میں یکسانیت نہیں رہی۔
رکشہ ڈرائیور اشرف نے بتایا کہ مہنگی ایل پی جی خریدنے کے باعث وہ ہزاروں روپے کے مقروض ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق روزانہ کرائے پر رکشہ چلانے، ایندھن کے اخراجات اور گھریلو ضروریات پوری کرنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے، یہاں تک کہ انہیں اپنے بچوں کو نانا نانی کے گھر بھیجنا پڑا کیونکہ گھر کے اخراجات پورے نہیں ہو رہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اس صورتحال پر نہ وزارتِ پیٹرولیم اور نہ ہی متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی جانب سے اب تک مؤثر کارروائی سامنے آئی ہے، جبکہ اوگرا کے حکام سے رابطے کی کوششوں کے باوجود اس معاملے پر کوئی مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






