گوگل نے اے آئی کے استعمال پر پابندیاں عائد کر دیں

واشنگٹن: گوگل نے سوشل میڈیا کمپنی میٹا کی جانب سے اپنے مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈلز کے استعمال پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس کے باعث میٹا کے کئی اے آئی منصوبے متاثر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق میٹا نے اپنے مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کے لیے گوگل سے اضافی کمپیوٹنگ صلاحیت فراہم کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم گوگل مطلوبہ وسائل مہیا کرنے میں ناکام رہا۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق گوگل نے رواں سال مارچ میں میٹا کو آگاہ کیا تھا کہ وہ جیمنی اے آئی ماڈلز کے لیے درکار کمپیوٹنگ صلاحیت مکمل طور پر فراہم نہیں کر سکتا، جس کے باعث میٹا کے متعدد اندرونی منصوبوں میں تاخیر ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپیوٹنگ وسائل کی محدود دستیابی سے گوگل کے دیگر صارفین بھی متاثر ہوئے، تاہم سب سے زیادہ اثر میٹا پر پڑا کیونکہ کمپنی کی جانب سے اے آئی ماڈلز کے استعمال کی طلب غیر معمولی حد تک زیادہ تھی۔

ذرائع کے مطابق نئی پابندیوں کے بعد میٹا نے اپنے ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اے آئی ٹوکنز کا زیادہ محتاط اور مؤثر استعمال کریں۔ اے آئی ٹوکنز وہ پیمانہ ہیں جن کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے استعمال کی مقدار کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

دوسری جانب گوگل اور میٹا نے اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جبکہ خبر رساں ادارے رائٹرز بھی اس خبر کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

ماہرین کے مطابق دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اربوں ڈالر نئے ڈیٹا سینٹرز اور جدید چپس پر خرچ کر رہی ہیں، لیکن مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کے مقابلے میں کمپیوٹنگ وسائل کی کمی اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گوگل کلاڈ کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سندر پچائی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ کمپیوٹنگ وسائل کی محدود دستیابی کے باعث مزید ترقی کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close