تعلیمی اداروں پر چھاپے

لاہور: وزیر تعلیم کی ہدایت پر رحیم یار خان کے مختلف تعلیمی اداروں میں خصوصی ٹیموں نے چھاپے مارے، جبکہ مئی میں کیے گئے معائنے کی رپورٹس میں اساتذہ کی غیرحاضری، بدانتظامی اور دیگر بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گورنمنٹ ایسوسی ایٹ ویمن کالج منتھار میں معائنے کے دوران تمام اساتذہ غیر حاضر پائے گئے، جبکہ طالبات کالج میں موجود تھیں لیکن کسی بھی کلاس میں تدریسی عمل جاری نہیں تھا۔

گورنمنٹ خواجہ فرید کالج سے متعلق رپورٹ میں امتحانات کے دوران مبینہ رشوت خوری اور نقل میں معاونت کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے طلبہ سے رقم وصول کرنے کے مبینہ ثبوت بھی رپورٹ کا حصہ بنائے گئے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امتحانی ڈیوٹی کے دوران ایک استاد مبینہ طور پر سویا ہوا پایا گیا، جبکہ بے ضابطگیوں کے الزام پر سپرنٹنڈنٹ کو حراست میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب گورنمنٹ ہائی اسکول چک 125 پی میں اساتذہ کلاس رومز میں تدریسی فرائض انجام دینے کے بجائے درختوں کے نیچے بیٹھ کر موبائل فون استعمال کرتے پائے گئے۔ رپورٹ میں طلبہ کی غیر موجودگی اور تعلیمی سرگرمیوں کی معطلی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close