اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے آزاد جموں و کشمیر سے متعلق اپنے حالیہ بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ریمارکس واضح، دوٹوک اور دیانتدارانہ تھے، تاہم بعض عناصر کی جانب سے انہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے تعلقات کو کوئی بھی قوت ختم نہیں کر سکتی، جبکہ پاکستان اور کشمیری عوام کا رشتہ تاریخ، قربانیوں اور مشترکہ جدوجہد سے جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1947 میں پاکستان ہجرت کرنے والے کشمیریوں کی قربانیاں تاریخ کا اہم حصہ ہیں، جبکہ بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ 78 برسوں سے آزادی کی جدوجہد میں بے شمار قربانیاں دے رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے لیے پاکستان کے عزم کا ثبوت مختلف جنگوں میں شہدا کا بہایا گیا خون ہے، جبکہ پاکستان آج بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں، حقِ خودارادیت اور استصوابِ رائے کے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر سے پاکستان اور مسئلہ کشمیر کے خلاف اٹھنے والی ایسی آوازیں، جو بیرونی ایجنڈوں یا مذموم مقاصد سے متاثر ہوں، ان کا بھرپور جواب دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف وہ کشمیری ہیں جنہوں نے ہجرت کی قربانی دی اور دوسری جانب مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام ہیں جو آج بھی بھارتی تسلط کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان قربانیوں کو نظرانداز کرنا یا کم تر ثابت کرنا دراصل مسئلہ کشمیر کی نفی کے مترادف ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ان کے نزدیک کشمیریت کی شناخت صرف پیدائشی سرٹیفکیٹ سے نہیں بلکہ گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں کے دوران کشمیریوں اور پاکستانیوں کی مشترکہ قربانیوں، جدوجہد اور وابستگی سے متعین ہوتی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






