اب پورے پاکستان سے عہدیداران کو اکٹھا کیا جائے گا، عمران خان رہائی تحریک کا نیا ماسٹر پلان

خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان تحریکِ انصاف کے ناراض اراکین نے صوبائی حکومت اور پارٹی قیادت کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں سے ہونے والے رابطوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے عمران خان کی رہائی کے لیے واضح اور مؤثر حکمتِ عملی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

پشاور میں منعقدہ ناراض اراکین کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ بعض حلقے اس تحریک کو مخصوص شخصیات یا گروپوں سے منسوب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ اس کا واحد مقصد عمران خان کی رہائی اور ان کے سیاسی وژن کی پیروی ہے۔

اعلامیے کے مطابق اراکین نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے جامع، واضح اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کی جائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس حوالے سے پہلے بھی مطالبات سامنے آ چکے ہیں، تاہم اب تک کوئی نمایاں پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی، جس پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ناراض اراکین نے صوبائی قیادت اور حکومت کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں اور ان کے رہنماؤں سے ہونے والی ملاقاتوں پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ رابطے عمران خان کی ہدایات کے مطابق ہو رہے ہیں اور کیا ان کا مقصد ان کی رہائی کے لیے پیش رفت کرنا ہے۔ اراکین نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو ان ملاقاتوں کی تفصیلات اور مقاصد سے پارٹی کارکنان اور پارلیمانی کمیٹی کو آگاہ کیا جانا چاہیے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ اپوزیشن رہنماؤں سے مختلف ملاقاتوں کے بارے میں نہ کارکنوں کو اعتماد میں لیا جاتا ہے اور نہ ہی پارلیمانی سطح پر اس حوالے سے معلومات فراہم کی جاتی ہیں، جس سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔

اجلاس میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی جانب سے مذاکرات کی دعوت قبول کرتے ہوئے ایک مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی نے چند نمائندہ اراکین کے نام تجویز کیے ہیں تاکہ جلد باضابطہ ملاقات کرکے عمران خان کی رہائی کی تحریک کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔

اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ جلد ملک بھر میں پی ٹی آئی کے پارلیمنٹیرینز، تنظیمی عہدیداران، ٹکٹ ہولڈرز اور دیگر بااثر شخصیات سے رابطے کیے جائیں گے تاکہ عمران خان کی رہائی کے لیے جاری تحریک کو مزید منظم، مؤثر اور وسیع بنایا جا سکے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close