بڑا امن معاہدہ ہونے جا رہا ہے؟ شہباز شریف کے بیان نے نئی امیدیں جگا دیں

وزیراعظم شہباز شریف نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں حالیہ صورتحال غیر مستحکم جنگ بندی کے خطرات کو نمایاں کر رہی ہے، جبکہ تشدد کے مزید واقعات سنگین انسانی المیوں کو جنم دے سکتے ہیں۔

اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے برادر اور شراکت دار ممالک کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازع کے پائیدار اور پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور امن معاہدے کے امکانات موجود ہیں۔

شہباز شریف نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں تمام فریق تحمل، بردباری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال اور محاذ آرائی کا راستہ خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ امن، مکالمہ اور سفارت کاری ہی دیرپا اور مؤثر حل فراہم کر سکتے ہیں، جبکہ خطے کے عوام کے مفاد میں ضروری ہے کہ مذاکراتی عمل جاری رکھا جائے۔

انہوں نے عالمی برادری اور تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں اور ایسے فیصلوں سے گریز کیا جائے جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام، تحمل اور تعمیری مکالمے کی ہر کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close