سیالکوٹ: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک کی نوجوان نسل بہتر تعلیم اور ترقی کے مواقع کی منتظر ہے، تاہم ماضی کی قیادتیں نوجوانوں کے مستقبل کو سنوارنے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرانی سیاسی اشرافیہ، جاگیرداروں اور بااثر طبقات کو جواب دینا چاہیے کہ انہوں نے نئی نسل کے لیے کیا کردار ادا کیا۔
سیالکوٹ میں جماعت اسلامی کے تعلیمی منصوبے “بنو قابل” کے انٹری ٹیسٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب میں ایک کروڑ سے زائد بچے آج بھی تعلیمی اداروں سے باہر ہیں، جبکہ عوام مہنگائی اور بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود نوجوان تعلیم حاصل کرکے آگے بڑھنے کا عزم رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی صرف دعوے نہیں کرتی بلکہ عملی نتائج پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے مطابق بنو قابل پروگرام کے ذریعے اب تک ایک لاکھ دس ہزار سے زائد افراد روزگار حاصل کر چکے ہیں، جبکہ اس پروگرام میں پندرہ لاکھ طلبہ رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو جائے تو جماعت اسلامی انہیں مفت تعلیم اور تربیت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، تاہم اس شعبے میں مزید ترقی کے لیے نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف لیپ ٹاپ تقسیم کرنے جیسے منصوبے نوجوانوں کی حقیقی ترقی کی ضمانت نہیں بن سکتے، بلکہ معیاری تعلیم اور عملی تربیت ہی کامیابی کا راستہ ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تعلیم کو ایک قومی تحریک کی شکل دینا ہوگی تاکہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نوجوانوں کی مناسب رہنمائی اور سرپرستی کی جائے تو وہ عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






