نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ، عدالت کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں بار بار احتجاج اور حالات کو کشیدہ بنانے کی کوششیں مناسب نہیں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد کیا گیا، اس کے باوجود صورتحال بگاڑنے کی کوشش کی گئی۔

سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں آزادانہ، منصفانہ اور جمہوری عمل کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم حکومت ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی، جس نے متعلقہ معاملات پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے خاتمے سے متعلق مطالبے پر عدالت بھی واضح فیصلہ دے چکی ہے کہ یہ آئینی نشستیں ہیں اور قانون سازی کے بغیر ختم نہیں کی جا سکتیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹنلز اور دیگر بڑے ترقیاتی منصوبے چند روز میں مکمل نہیں ہو سکتے، تاہم حکومت ان منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی افراد کو روزگار کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ہر چند ماہ بعد احتجاجی تحریک شروع کرنا مسائل کا حل نہیں، قانون کو ہاتھ میں لینے اور عوام کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان تاریخی، مذہبی اور قومی رشتہ انتہائی مضبوط ہے اور اسے کمزور کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو بجلی صرف 3 روپے فی یونٹ کے حساب سے فراہم کی جا رہی ہے، جو حکومت کی جانب سے ایک بڑا ریلیف ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close