پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت غذائی خود کفالت سمیت مختلف شعبوں میں ترقی کے لیے جامع منصوبہ بندی کر رہی ہے اور 2030 تک خیبرپختونخوا متعدد شعبوں میں خود کفیل بن جائے گا۔
ورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ محفوظ اور معیاری خوراک کے بارے میں عوامی آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے قیام سے عوام کو صحت بخش خوراک کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ محکمہ خوراک کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ صوبہ ابھی تک گندم کی پیداوار میں مکمل خود کفیل نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ غذائی خود کفالت کے حصول کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے اور آئندہ بجٹ میں محکمہ خوراک کے لیے فنڈز میں اضافہ کرتے ہوئے جدید گوداموں کی تعمیر بھی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت نے متعدد بار رابطوں اور خطوط کے باوجود خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی روک رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کے بغیر قائم حکومتیں عوامی مفادات کا تحفظ نہیں کرتیں۔
انہوں نے کہا کہ سی آر بی سی منصوبے کے لیے صوبائی حکومت نے تین ارب روپے مختص کیے، تاہم وفاقی حکومت نے اس منصوبے کے لیے کوئی مالی تعاون نہیں کیا۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر وفاق اس منصوبے میں 80 فیصد شراکت کا پابند تھا، جو بعد میں کم کرکے 65 فیصد کر دی گئی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ناردرن بائی پاس منصوبے کی تکمیل کے لیے صوبائی حکومت نے چار ارب روپے بطور بریج فنانسنگ فراہم کیے، جبکہ پشاور بس ٹرمینل مکمل ہونے کے باوجود نیشنل ہائی وے اتھارٹی راستے کے لیے این او سی جاری نہیں کر رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سوات ڈیم منصوبہ بھی تکمیل کے لیے تیار ہے، لیکن غیر ملکی انجینئرز کے دورے کے حوالے سے وفاقی سطح پر این او سی کے اجرا میں تاخیر کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا روزانہ 500 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے، جبکہ صوبے میں استعمال ہونے والی گیس کی مقدار تقریباً 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے باعث صوبے کو اپنی پیدا کردہ گیس سے بھی مکمل فائدہ نہیں مل رہا، جس سے خصوصاً متوسط طبقہ متاثر ہو رہا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






