سرکاری افسران اور وزراء ہوشیار! ہائی کورٹ نے توہینِ عدالت کے قانون کو مزید سخت کر دیا

مظفرآباد (پی آئی ڈی، 4 جون 2026) — عدالت عالیہ آزاد جموں و کشمیر مظفرآباد نے توہینِ عدالت کے مقدمات میں مسئولان کی نمائندگی سے متعلق نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے سرکاری وکلاء اور لاء آفیسران کے ایسے مقدمات میں مسئول کی جانب سے پیش ہو کر دلائل دینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

عدالت عالیہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق قائم مقام چیف جسٹس جناب جسٹس سید شاہد بہار نے اس حوالے سے باقاعدہ سرکلر جاری کر دیا ہے۔

سرکلر کے مطابق توہینِ عدالت کے مقدمات میں مسئول (Contemnor) کا پہلی سماعت پر ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہونا لازمی ہوگا۔ مزید برآں، مسئول ہر پیشی پر ذاتی حاضری کا پابند ہوگا، جب تک عدالت اسے ذاتی حاضری سے استثنیٰ دیتے ہوئے نجی وکیل (پرائیویٹ کونسل) کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت نہ دے۔

جاری کردہ ہدایات کے تحت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، ایڈووکیٹ جنرل، دیگر لاء آفیسران یا سرکاری وکلاء توہینِ عدالت کے مقدمات میں مسئول کی جانب سے پیش ہو کر دلائل نہیں دے سکیں گے۔

سرکلر کا اطلاق عدالت عالیہ آزاد جموں و کشمیر میں زیرِ سماعت تمام توہینِ عدالت کے مقدمات پر ہوگا، جبکہ تمام متعلقہ برانچز، عدالتی افسران اور لاء آفیسران کو اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close