دنیا کی انوکھی کار کے پیچھے چھپا وہ بڑا راز، جو برقی گاڑیوں کی چھٹی کرا سکتا ہے

واشنگٹن:  دنیا بھر میں جہاں توجہ برقی گاڑیوں پر مرکوز ہے، وہیں امریکی ریاست یوٹاہ کی بریگھم ینگ یونیورسٹی کے طلبہ نے ایک ایسی منفرد گاڑی تیار کر لی ہے جو ایندھن کی بچت کے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔

طلبہ کی تیار کردہ “سپر مائلیج” نامی گاڑی صرف ایک گیلن (3.8 لیٹر) ایندھن پر 2 ہزار 145 میل کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ گاڑی انتہائی ہلکی، مختصر حجم اور ہوا کی مزاحمت کم کرنے والے جدید ڈیزائن پر مبنی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گاڑی کا وزن صرف 49 کلوگرام ہے اور اسے کاربن فائبر سے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں محض 30 ملی لیٹر گنجائش کا ایندھن ٹینک نصب ہے، جو ایک عام ٹیسٹ ٹیوب سے کچھ ہی بڑا ہے اور تقریباً 20 میل سفر کے بعد دوبارہ بھرنا پڑتا ہے۔

یہ گاڑی سالانہ شیل ایکو میراتھن مقابلے کے لیے تیار کی گئی ہے، جس میں شرکاء کم سے کم ایندھن استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ فاصلہ طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سپر مائلیج میں روایتی گاڑیوں کی بیشتر سہولیات نکال دی گئی ہیں، جبکہ ڈرائیور کے قد اور وزن کی بھی حد مقرر کی گئی ہے۔ اس میں صرف وہ شخص بیٹھ سکتا ہے جس کا قد 163 سینٹی میٹر (5 فٹ 4 انچ) اور وزن 54 کلوگرام تک ہو۔

ماہرین کے مطابق حسابی طور پر یہ گاڑی یوٹاہ سے نیویارک تک کا سفر ایک گیلن ایندھن میں مکمل کر سکتی ہے، تاہم اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار صرف 37 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور ہر 20 میل کے بعد ایندھن بھرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

واضح رہے کہ سپر مائلیج تجارتی استعمال کے لیے نہیں بلکہ ایک تجرباتی منصوبہ ہے، جس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ مخصوص حالات میں روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیاں بھی غیرمعمولی حد تک مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close