کیا کراچی پولیس نے خود پنکی کو بچایا؟ رپورٹ میں انکشافات

کراچی: مبینہ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف درج مقدمات میں پولیس کی تفتیش پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں، جبکہ عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کئی اہم بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق پولیس نے 12 مئی کو ملزمہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری گارڈن کے فلیٹ نمبر 306 سے ظاہر کی، جبکہ 16 مئی کو گرفتار ہونے والے اس کے مبینہ ساتھیوں ذیشان اور سہیل کی گرفتاری بھی اسی فلیٹ سے ظاہر کی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزمہ اور دیگر ملزمان سے منشیات کی برآمدگی کی تفصیلات تقریباً یکساں درج کی گئی ہیں، جبکہ بعض منشیات وہی ظاہر کی گئی ہیں جو مختلف مقدمات میں بھی شامل کر دی گئیں۔

عدالت نے پولیس رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے اور کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر ہوگی۔

ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی پولیس کے تفتیشی عمل اور ریمانڈ کے طریقہ کار پر سوالات اٹھ چکے ہیں، جس کے بعد موجودہ رپورٹ نے تفتیش کے معیار پر مزید بحث چھیڑ دی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close