ایران کا جواب سن کر ٹرمپ برہم ہو گئے، ، تجاویز مسترد کردیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے سے متعلق ایران کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک بیان میں سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ”میں نے ابھی ابھی ایران کے نام نہاد نمائندوں کی طرف سے دیا گیا جواب پڑھا ہے جو مجھے بالکل پسند نہیں آیا، یہ جواب مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ایران گزشتہ 47 برسوں سے امریکا اور پوری دنیا کے ساتھ صرف تاخیر کا کھیل کھیلتا رہا ہے تاکہ وقت گزارا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کو واضح طور پر خبردار کیا کہ وہ اسے کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے اور امریکا ایران سے اس کی افزودہ یورینیم حاصل کرے گا۔

انہوں نے سابق صدر براک اوباما کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اوباما ایران کے لیے بہت اچھے تھے اور انہوں نے اسرائیل اور دیگر اتحادیوں کو پیچھے چھوڑ کر تہران کو اربوں ڈالر اور زندگی کی نئی رعایت دی۔

ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکا ایران میں ستر فیصد فوجی اہداف کو پہلے ہی نشانہ بنا چکا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو مزید دو ہفتوں تک دوبارہ حملے کیے جا سکتے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close