الشفاء ٹرسٹ نے آنکھوں کے کینسر میں مبتلا 140 بچوں کی بصارت اور زندگی بچا لی۔ ڈاکٹروں کا بچوں میں بینائی بچانے کیلئے جلد تشخیص پر زور

الشفاء ٹرسٹ آئی ہاسپٹل کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آنکھوں کے کینسر میں مبتلاء بچوں کی بیماری سے بڑا مسئلہ انکی تاخیر سے آمد ہے جس سے انکی ریکوری مشکل ہو جاتی ہے۔ کینسر یونٹ کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران علاج کرانے والے تقریباً 140 بچے اب کینسر سے مکمل طور پر شفایاب ہو چکے ہیں جو ایسے حالات میں اہم کامیابی ہے جہاں بچوں میں آنکھوں کا کینسر اکثر آخری مراحل میں تشخیص ہوتا ہے۔

کینسر یونٹ کے قیام سے اب تک 620 مریض رجسٹر کیے جا چکے ہیں جبکہ 3,952 کیموتھراپی سیشن کیے گئے۔ بیشتر مریض کم آمدن اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے جہاں آگاہی کی کمی، سفری اخراجات اور علاج میں تاخیر بڑی رکاوٹیں ہیں۔

پیڈیاٹرک آنکولوجسٹ ڈاکٹر تنزیلہ فرح نے کہا کہ بہت سے والدین بچوں میں آنکھوں کے کینسر کی ابتدائی علامات نہیں پہچان پاتےجن میں تصاویر میں آنکھ میں سفید چمک یا آنکھوں کا درست رابطہ نہ ہونا شامل ہے۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر مرض کی جلد تشخیص ہو جائے تو نہ صرف بچوں کی جان بچائی جا سکتی ہے بلکہ ان کی بینائی بھی محفوظ رکھی جا سکتی ہے۔انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ موبائل فون کی ٹارچ کے ذریعے نومولود اور کم عمر بچوں کی آنکھوں میں غیر معمولی سفید عکس چیک کریں۔قریبی رشتہ داروں میں شادیاں آنکھوں کی بیماریوں اور بچوں کے کینسر کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہیں۔

عالمی اعدادوشمار کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں جلد تشخیص اور خصوصی علاج کی وجہ سے ریٹینو بلاسٹوما میں صحت یابی کی شرح 99 فیصد سے زیادہ ہےجبکہ غریب ممالک میں علاج میں تاخیر کے باعث یہ شرح تقریباً 50 فیصد تک گر سکتی ہے۔غریب خاندانوں پر مالی بوجھ کم کرنے کیلئے الشفا ٹرسٹ نے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف پیتھالوجی اور کمبائنڈ ملٹری ہسپتال سمیت مختلف اداروں کے ساتھ تشخیصی ٹیسٹ اور ریڈیوتھراپی سہولتوں کیلئے اشتراک کیا۔ کئی مستحق مریضوں کو مفت ریڈیوتھراپی بھی فراہم کی گئی۔

ڈاکٹروں کے مطابق بہت سے خاندانوں کیلئے بروقت علاج کا مطلب صرف بینائی ہی نہیں بلکہ زندگی بچانا بھی تھا۔ڈاکٹر تنزیلہ کے مطابق بچوں میں آنکھوں کا کینسر قابل علاج ہے۔ اصل خطرہ علاج میں تاخیر ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close