نیویارک: اقوامِ متحدہ کی ایٹمی ایجنسی آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی کا کہنا ہے کہ ایران کی بیشتر افزودہ یورینیئم اب بھی اصفہان کے جوہری مرکز میں موجود ہونے کا امکان ہے۔مغربی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو میں ان کا کہنا ہے کہ جون 2025 کے امریکی حملوں کے وقت موجود یورینیئم غالبا اب بھی وہیں ہے، جبکہ نطنز اور فردو کے معائنے کی بھی ضرورت ہے۔رافائل گروسی نے بتایا ہے کہ ایران کے پاس 440.9 کلو گرام 60 فیصد افزودہ یورینیئم موجود ہے، جس میں سے تقریبا 200 کلو گرام اصفہان کی سرنگوں میں ہو سکتی ہے۔ رافائل گروسی نے یہ بھی کہا ہے کہ آئی اے ای اے نے روس سمیت دیگر ممالک سے ایران کی اعلی افزودہ یورینیئم کو ملک سے باہر منتقل کرنے کے امکان پر بھی بات چیت کی ہے، تاہم یہ ایک پیچیدہ عمل ہو گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






