اسلام آباد (آئی این پی )تاجر برادری نے کہا ہے کہ انڈسٹری ایل این جی بحران کا شکار ہے، 22 ہزار میگاواٹ سینکشن لوڈ کے مقابلے میں صرف 3 ہزار میگاواٹ بجلی استعمال ہورہی ہے۔انہوں نے دکانوں کے اوقات رات 10 بجے تک بڑھانے اور بلوچستان کے گیس ذخائر استعمال کرنے کا مطالبہ کیا۔فیڈریشن ہاوس میں ہنگامی پریس کانفرنس میں بزنس کمیونٹی نے حکومتی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سستی متبادل توانائی کے 12 ہزار میگاواٹ وسائل موجود ہیں، مگر صرف 3 ہزار میگاواٹ ہی استعمال ہو رہے ہیں، جس سے معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔صنعتکار ایس ایم تنویر نے کہا کہ 20 سال میں بجلی کے نرخ 20 گنا بڑھ چکے ہیں، ہمیں ہاتھ پائوں باندھ کر مقابلے میں چھوڑ دیا گیا ہے۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ ملک میں 41 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہونے کے باوجود لوڈشیڈنگ جاری ہے، صنعتیں صرف 13 فیصد بجلی استعمال کر رہی ہیں۔ فیڈریشن کے نائب صدر امان پراچہ نے کہا کہ گیس اور بجلی کے ٹیرف اتنے زیادہ ہیں کہ ہم خطے میں مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ایف پی سی سی آئی نے ایکسپورٹس میں ممکنہ 7 ارب ڈالر کمی کا خدشہ بھی ظاہر کیا اور 30 اپریل کو شیڈو بجٹ اور 5 سالہ معاشی پلان پیش کرنے کا اعلان کیا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






