اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ جون کے بعد زائد المیعاد شناختی کارڈز کی تجدید نہ کرانے پر لیٹ فیس اور بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نادرا نے ہدایت کی ہے کہ شہری فوری طور پر اپنے ایکسپائرڈ اسمارٹ شناختی کارڈز کی تجدید کرائیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق میعاد ختم ہونے کے بعد کارڈ کی تجدید پر جرمانہ لاگو ہو سکتا ہے، جو فی الحال عوامی سہولت کے پیش نظر نافذ نہیں، تاہم جون کے بعد اس پر باقاعدہ عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔
نادرا کے مطابق اس وقت ملک بھر میں تقریباً 2 کروڑ 74 لاکھ شناختی کارڈز اور لاکھوں دیگر دستاویزات، جیسے اوورسیز کارڈز اور بچوں کے سرٹیفکیٹس، زائد المیعاد ہو چکے ہیں۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ بروقت تجدید نہ کرانے کی صورت میں بینک اکاؤنٹس، موبائل سمز اور دیگر تصدیقی سہولیات معطل ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور حکومتی سبسڈیز (جیسے فیول سبسڈی) تک رسائی بھی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ جائیداد اور گاڑیوں کی منتقلی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے تعاون سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 45 لاکھ زائد المیعاد کارڈز پر 81 لاکھ سے زائد سمز فعال ہیں، جو کسی بھی وقت بلاک کی جا سکتی ہیں۔ مزید برآں، نادرا نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوت شدہ افراد کے نام پر رجسٹرڈ تقریباً 15 لاکھ سمز کو فوری طور پر اپنے نام منتقل کرائیں۔
نادرا نے ان والدین کو بھی بذریعہ ایس ایم ایس یاد دہانی کرائی ہے جن کے بچے 18 سال کے ہو چکے ہیں مگر ابھی تک شناختی کارڈ نہیں بنوایا۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی مشکل سے بچنے کے لیے بروقت نادرا دفاتر یا آن لائن پورٹل سے رجوع کریں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






