وزیراعظم اور ایم کیو ایم وفد کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

وزیراعظم شہباز شریف سے ایم کیو ایم کے وفد کی ملاقات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جس میں بلدیاتی نظام اور آئینی ترامیم سے متعلق اہم امور زیرِ بحث آئے۔

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم نے مقامی حکومتوں کے حوالے سے 28ویں آئینی ترمیم جلد لانے اور اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا مطالبہ کیا۔ وفد نے اپنی مجوزہ آئینی ترامیم کو بھی اس ترمیم میں شامل کرنے کی درخواست کی اور مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر یہ اقدام ناگزیر ہو چکا ہے۔

وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر آئندہ ہفتے مزید مشاورت کیلئے ایک اور ملاقات پر اتفاق کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے گورنر سندھ نہال ہاشمی کو ہدایت کی کہ صوبے میں ایم کیو ایم کو کسی قسم کی شکایت کا سامنا نہ ہو۔

ملاقات کے دوران ایم کیو ایم نے یہ شکوہ بھی کیا کہ اتحادی ہونے کے باوجود اہم فیصلوں میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا، جس پر وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ہر اہم فیصلے میں اتحادیوں کو شامل کیا جائے گا۔

وفد نے کراچی پیکیج پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ شہر میں امن و امان اور انفراسٹرکچر کی صورتحال تشویشناک ہے۔

ذرائع کے مطابق سندھ میں گورنر کی تبدیلی کو وزیراعظم نے سیاسی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کامران ٹیسوری بطور گورنر ایک متحرک اور فعال شخصیت تھے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close