غصیلے نوجوانوں کو صحت کے کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟

ایک نئی تحقیق کے مطابق غصیلے یا جارح مزاج نوجوانوں کی حیاتیاتی (بیالوجیکل) عمر تیزی سے بڑھ سکتی ہے اور وہ بعد کی زندگی میں جسمانی صحت کے پیچیدگیوں کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف ورجینیا میں کی گئی، جس میں جنوب مشرقی امریکہ کے شہری اور دیہی علاقوں کے 121 مڈل اسکول طلبا (46 لڑکے اور 75 لڑکیاں) شامل تھے۔ شرکا کی عمر 13 برس سے نوجوانی تک ریکارڈ کی گئی، اور والدین و ساتھیوں سے ان کے جارحانہ رویے کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔

جب شرکا 30 برس کے ہوئے، تو سائنسدانوں نے ان کے جسمانی اور حیاتیاتی بڑھاپے کا اندازہ لگایا۔ اس کے لیے بلڈ پریشر، سوزش، گلوکوز، کولیسٹرول اور مدافعتی نظام کی کارکردگی جیسے پیمانوں کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ نوجوانوں میں جارحانہ رویہ زیادہ باڈی ماس انڈیکس (BMI) اور صحت کے پیچیدگیوں کے بڑھنے سے جڑا ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طبعی صحت پر منفی اثرات کی شدت ان کے بیالوجیکل بڑھاپے سے متعلق ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close