نیند کے دوران رال بہتی ہے،کیا یہ کسی سنگین بیماری کی علامت تو نہیں؟ ابھی جانئے

نیند کے دوران رال بہنا زیادہ تر افراد کے ساتھ ہوتا ہے، لیکن اگر یہ عادت بن جائے تو یہ کسی سنگین بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔

امریکا کے نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی فینبرگ اسکول آف میڈیسن کے ماہر ڈاکٹر لندن ڈیوک کے مطابق رال ٹپکنے کا سامنا ہر فرد کو کبھی نہ کبھی ہوتا ہے، جیسے سونے سے پہلے زیادہ پانی پینے یا کسی تنگ جگہ پر سونے کے دوران۔

تاہم ڈاکٹر نے کہا کہ اگر یہ مسئلہ معمول بن جائے، یعنی ہر صبح جاگنے پر رال کے آثار نظر آئیں، تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، خاص طور پر جب یہ اچانک شروع ہوا ہو۔ یہ کسی سنگین نیند کے عارضے یا دماغی مسئلے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

رال بہنے کی ممکنہ وجوہات درج ذیل ہیں:

  • سلیپ اپنیا: یہ ایک سنگین عارضہ ہے جس میں نیند کے دوران سانس بار بار رکتی ہے۔ سانس رکنے پر متاثرہ فرد منہ کھول کر مزید ہوا کھینچتا ہے، جس سے رال بہنے لگتی ہے۔
  • منہ سے سانس لینا: کچھ افراد پیدائشی طور پر نیند کے دوران منہ سے سانس لینے کے عادی ہوتے ہیں، جس سے رال زیادہ بہتی ہے۔
  • سینے میں جلن (GERD): سینے میں جلن بھی رال بہنے کا سبب بن سکتی ہے۔
  • ناک کی بندش: موسمی الرجی، نزلہ زکام، گلا خراب ہونا، ٹانسلز اور نتھنے کے انفیکشن سے ناک کے ٹشوز سوج جاتے ہیں اور ناک بند ہو جاتی ہے، جس سے منہ کے ذریعے سانس لینے پر رال زیادہ بہتی ہے۔
  • دانتوں کے مسائل: بعض دانتوں کی بیماریاں بھی رال بہنے کی وجہ بن سکتی ہیں۔
  • سونے کا انداز: پیٹ کے بل یا پہلو کے بل سونے سے منہ کا زاویہ ایسا ہوتا ہے کہ اضافی لعاب دہن قدرتی طور پر تکیے پر منتقل ہو جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع شدہ تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین کو چاہیے کہ اس حوالے سے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close