اٹلی کا ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں شریک نہ ہونے کا اعلان، صدر ٹرمپ کا ایران سے متعلق سخت مؤقف
اٹلی نے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں شریک نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود ایران پر حملوں میں حصہ نہیں لے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے اور ان کا نام ایران کی مبینہ ہٹ لسٹ میں سرفہرست ہے، تاہم ایسے خطرات انہیں اپنے فیصلوں سے پیچھے نہیں ہٹا سکتے۔
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے انقرہ میں نیٹو کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں تنازع کے آغاز سے ہی اٹلی کا مؤقف واضح رہا ہے۔ ان کے مطابق اٹلی ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا اور خطے میں کشیدگی کے باوجود اپنے اسی مؤقف پر قائم رہے گا۔
جارجیا میلونی کا کہنا تھا کہ اٹلی کی پالیسی ابتدا ہی سے یہ رہی ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی حملوں کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک موجودہ صورتحال میں عسکری کارروائیوں کے بجائے اپنے طے شدہ مؤقف پر عمل کرے گا۔
رپورٹس کے مطابق اٹلی اس سے قبل بھی اسی پالیسی پر عمل کرتا رہا ہے۔ مارچ میں اٹلی نے مشرقِ وسطیٰ جانے والے امریکی فوجی طیاروں کو سسلی کے سگونیلا ایئر بیس پر اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، جسے اٹلی کے محتاط اور غیر عسکری مؤقف کی عکاسی قرار دیا گیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انقرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جان خطرے میں ہے اور ایران کی مبینہ ہٹ لسٹ میں ان کا نام سرفہرست ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں صدارت کا منصب دنیا کے خطرناک ترین عہدوں میں سے ایک ہے اور انہوں نے ایسے اقدامات کیے ہیں جو ان کے بقول کوئی سابق امریکی صدر نہیں کر سکا، اسی لیے انہیں مختلف خطرات کا سامنا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ان خطرات کے باوجود اپنے فیصلوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کے مطابق ایسے خطرات انہیں اپنے اقدامات سے باز نہیں رکھ سکتے اور وہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری فیصلے کرتے رہیں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ طویل جنگ نہیں چاہتا، تاہم ان کے بقول ایران نے بحری جہازوں پر حملے کیے، جس کے جواب میں امریکا نے کارروائی کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو اسی کی زبان میں جواب دیتا ہے اور اگر ایران حملہ کرتا ہے تو امریکا اس سے “10 گنا زیادہ طاقتور جواب” دیتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق مستقبل کی صورتحال پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے حوالے سے جو بھی پیش رفت ہوگی، وہ جلد سامنے آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کا مقصد طویل جنگ نہیں بلکہ اپنے مفادات اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






