کورونا وائرس چین نہیں، امریکی لیبارٹری سے لیک ہوا، امریکی پروفیسر کے دعوے نے تہلکہ مچا دیا

واشنگٹن (پی این آئی) امریکی پروفیسر جیفری ساکس کے دعوے نے عالمی سطح پر تہلکہ مچا دیا ہے کہ کورونا وائرس چینی نہیں بلکہ امریکی لیبارٹری سے لیک ہوا تھا۔ اپنی تحقیق کے حوالے سے امریکی پروفیسر جیفری ساکس نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس امریکا کی بائیو ٹیکنالوجی لیب میں تیار کیا گیا تھا۔ پروفیسر جیفری ساکس کورونا وائرس کی وباء کے ماخذ پر 2 برس سے تحقیق کر رہے تھے۔ یہ بات اہم ہے کہ کورونا وائرس پھیلانے کے حوالے سے امریکا اور چین ایک دوسرے پر الزامات لگا چکے ہیں۔

اس حوالے سے چینی حکام نے کورونا وائرس کے حوالے سے عالمی سطح پر ہونے والی تنقید اور افواہوں کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ کورونا وائرس انسان کا پیدا کردہ نہیں، نہ یہ کسی تجربے کے دوران کسی لیب سے لیک ہوا، ووہان لیب کے متعلق تمام افواہیں جھوٹ پر مبنی ہیں، نہ وہاں کورونا وائرس کی تحقیق ہوئی نہ وہاں کا کوئی اسٹاف ممبر یا طالب علم اس کا شکار ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی، برطانوی اور آسٹریلیا کے سائنس دانوں کے تحقیقی پیپرز میں کہا گیا کہ ابھی تک ایسی کوئی شہادت نہیں ملی کہ کورونا وائرس کسی لیبارٹری کا تیار کردہ ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ووہان لیب سے لنک ہے۔۔۔۔