فٹبال میں امتیازی سلوک کے مرتکب کھلاڑیوں اور ٹیم آفیشلز کے خلاف سخت قوانین نافذ کرنے کا اعلان

انگلش فٹبال ایسوسی ایشن (ایف اے) نے نئے سیزن سے امتیازی سلوک میں ملوث کھلاڑیوں اور ٹیم آفیشلز کے خلاف سخت قوانین نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نئے ضوابط کے مطابق نسلی، مذہبی، صنفی یا کسی بھی دوسرے امتیازی رویے کا جرم ثابت ہونے پر کم از کم 10 میچز کی معطلی لازمی ہوگی۔ اس سے قبل ایسے معاملات میں سزا عام طور پر 6 سے 12 میچز کے درمیان دی جاتی تھی۔

ایف اے کے مطابق نئے قوانین کا اطلاق صرف کھلاڑیوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ کوچز، منیجرز اور ٹیکنیکل ایریا میں موجود دیگر افراد بھی اس کے دائرہ کار میں شامل ہوں گے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں امتیازی رویوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم یہ مسئلہ اب بھی فٹبال کے لیے ایک اہم چیلنج ہے، جس کے باعث قوانین کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔

ایف اے نے واضح کیا کہ اگر کسی معاملے میں اضافی سنگین عوامل موجود ہوں تو ریگولیٹری کمیشن 10 میچز سے زیادہ کی سزا بھی عائد کر سکتا ہے۔

تاہم اگر کوئی فرد فوری طور پر اپنی غلطی تسلیم کر لے یا دیگر رعایتی حالات موجود ہوں تو کم از کم 6 میچز کی معطلی دی جا سکتی ہے۔

بار بار ایسے جرائم میں ملوث افراد کو 12 میچز سے زیادہ کی پابندی یا انتہائی سنگین صورتوں میں طویل مدتی معطلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔