پاکستان سپر لیگ 11 کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا اس سیزن میں پی ایس ایل کے کئی ریکارڈ بھی بنے۔
پاکستان سپر لیگ کا گیارھواں سیزن پشاور زلمی کے دوسری بار چیمپئن بننے کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ یہ سیزن انتہائی کامیاب رہا، کھلاڑیوں نے دھماکے دار کارکردگی پیش کر کے کئی عالمی سطح اور لیگ کی سطح پر نئے ریکارڈ بنائے۔
ایونٹ کی واحد ہیٹ ٹرک نوجوان علی رضا نے کی اور وہ پی ایس ایل میں یہ کارنامہ انجام دینے والے کم عمر ترین بولر بنے۔
پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم نے کسی بھی سیزن میں سب سے زیادہ 588 رنز کا ریکارڈ برابر کیا اور وہ پی ایس ایل کی تاریخ میں سب سے زیادہ چار بار 500 سے زائد رنز بنانے والے پہلے بیٹر بنے۔
تاہم بدقسمتی سے فائنل میں صفر پر آؤٹ ہوئے اور پی ایس ایل کے ایک سیزن میں فخر زمان کا ریکارڈ توڑ کر سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ اپنے نام نہ کر سکے۔
بابر اعظم نے سیزن 11 میں دو سنچریاں اسکور کیں، پی ایس ایل کے ایک سیزن میں دو سنچریاں بنانے والے وہ پہلے بلے باز بنے۔ زلمی نے گلیڈی ایٹر کے خلاف پی ایس ایل کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹوٹل 255 رنز بنایا۔
پی ایس ایل کے گیارھویں سیزن میں ریکارڈ 6 سنچریاں بنیں۔ ان میں بابر اعظم کی دو سنچریوں کے علاوہ اسٹیو اسمتھ، صاحبزادہ فرحان، کوشال مینڈس اورعثمان خان نے ایک ایک سنچری اسکور کی۔
رنز کے اعتبار سے پی ایس ایل تاریخ کی سب سے بڑی جیت کا ریکارڈ بھی اسی سیزن میں بنا۔ پشاور زلمی نے کراچی کنگز کے خلاف 159 رنز سے فتح سمیٹی۔
پی ایس ایل کی تاریخ کی سب سے بڑی وکٹ پارٹنر شپ پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم اور کوشال مینڈس کے درمیان 191 رنز کی بنی۔
گیندوں کے اعتبار سے سب سے بڑی جیت کا ریکارڈ بھی اسی سیزن میں بنا۔ اسلام آباد یونائیٹڈ نے حیدرآباد کنگزمین کیخلاف 80 گیند پہلے ہدف حاصل کیا۔
پی ایس ایل کے ایک سیزن میں سفیان مقیم نے سب سے زیادہ 22 شکار کیے۔ آصف محمود نے ڈیبیو پر ایک ہی اوور میں چار وکٹیں حاصل کیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






