خیبر پختونخوا میں فاٹا کےضم شدہ اضلاع میں جیلوں کی اراضی کے حصول لیے 85کروڑ روپے منظور

پشاور(آ ئی این پی)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جیل خانہ جات شفیع اللہ خان نے کہا ہے کہ نئے ضم شدہ اضلاع میں جیلوں کی تعمیر کی خاطر اراضی کے حصول کے لیے 850 ملین روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جبکہ وہاں پہلے سے قائم جیلوں کی حالت بہتر بنانے کے ساتھ ان میں تعمیری کاموں کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع خیبر میں باڑہ اور لنڈی کوتل جیل کا تعمیراتی کام 70فیصد مکمل ہوچکاہے جبکہ ضلع کرم میں صدہ اور پاڑہ چنارسب جیل کو ڈسٹرکٹ جیل کا درجہ دیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں محکمہ جیل خانہ جات کی کارکردگی بارے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر آئی جی جیل خانہ جات خالد عباس، ایڈیشنل آئی جی ریحان گل خٹک اور ضلع بھر کے جیل سپرنٹنڈنٹس اور متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ معاون خصوصی نے محکمہ کی سالانہ کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اورمتعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبہ بھر کی جیلوں کو جدید خطوط پر استوار کریں اور جیلوں میں خود کا رسسٹم وضع کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سوات میں سنٹرل جیل کے قیام کے لیے250 کنال اراضی خریدی گئی ہے اور بہت جلد اس کی تعمیرشروع ہوگی۔جبکہ مالاکنڈ، چارسدہ،ضلع نوشہرہ کی جیلوں کے لئے اراضی خریدی جارہی ہے اور جیلوں میں تعینات سٹاف کو تربیت دینے کی خاطر ہری پور سٹاف ٹریننگ اکیڈمی اگلے مہینے شروع کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ جیلوں میں این سی ایچ ڈی مکتب سکولوں کا قیام یقینی بنایا جا رہا ہے جس میں چھ مہینے کا تعلیمی کورس ہوگا۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ سوات اور چترال ڈسٹرکٹ جیلوں میں اونی شال کی صنعتیں لگائی جائیں تاکہ ان جیلوں میں موجود قیدی اس سے فائدہ اٹھائیں اور وہ جیل میں رہ کر بھی روزگار کر کے اپنے خاندانوں کے لیے منافع کما سکیں۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ جیلوں میں منشیات کی روک تھام کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے جائیں گے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کاروائی ہوگی۔