وقت کی پیمائش کے عالمی نظام میں تبدیلی کی جانے والی ہے؟ جانئے

دنیا بھر میں وقت کی پیمائش کے نظام میں بڑی تبدیلی ہونے جا رہی ہے۔ سائنسدان اور عالمی ادارے وقت کا تعین کرنے والے نظام سے لیپ سیکنڈ ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

لیپ سیکنڈ کیا ہے؟ دنیا میں وقت ناپنے کے دو طریقے ہیں، ایک زمین کی گردش پر مبنی اور دوسرا ایٹمی گھڑیوں پر مبنی جو انتہائی درست وقت بتاتی ہیں۔ زمین کی گردش کی رفتار ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی، چاند کی کشش اور دیگر قدرتی عوامل سے اس میں فرق آتا ہے، اس فرق کو ختم کرنے کے لیے 1972 سے اب تک 27 بار عالمی گھڑیوں میں ایک اضافی سیکنڈ شامل کیا گیا ہے جسے لیپ سیکنڈ کہا جاتا ہے۔

اس سے مسئلہ کیا ہوتا ہے؟ عام افراد کے لیے ایک سیکنڈ کی اہمیت نہیں لیکن انٹرنیٹ سرورز، پاور گرڈز اور ایئرلائن سسٹمز کے لیے یہ بڑا مسئلہ بن جاتا ہے، ہر بار لیپ سیکنڈ شامل کرنے پر بڑی ویب سائٹس اور ڈیٹا سینٹرز تکنیکی خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں، اسی لیے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اسے ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

پیرس میں بین الاقوامی اوزان و پیمائش کے ادارے بی آئی پی ایم کے 69 رکن ممالک اس تجویز پر ووٹ دے رہے ہیں، اگر منظوری ہوئی تو یہ تبدیلی مئی 2027 سے نافذ ہو سکتی ہے۔ 2022 میں بھی رکن ممالک نے 2035 تک لیپ سیکنڈ ختم کرنے کی قرارداد کی حمایت کی تھی۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں زمین کی تیز گردش کی وجہ سے گھڑیوں میں ایک سیکنڈ کم کرنے یعنی منفی لیپ سیکنڈ کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے، جس کا ابھی تک تجربہ نہیں ہوا اور اس سے کمپیوٹر نظام مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔

کیا دن چھوٹے یا بڑے ہوں گے؟ نہیں، لیپ سیکنڈ ختم ہونے سے دن کی مدت نہیں بدلے گی، صرف ایٹمی گھڑیوں کو مسلسل چلنے دیا جائے گا، فرق کو ایک گھنٹے تک پہنچنے میں 3 ہزار سال سے زیادہ لگ سکتے ہیں، اس وقت مستقبل میں لیپ آور کے ذریعے اسے درست کرنے پر غور ہوگا۔