لاہور ہائیکورٹ نے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس سے متعلق اہم فیصلہ سنا دیا۔
ایف بی آر اور دیگر سرکاری محکموں کی جانب سے دفتری اعتراضات کے باعث تاخیر سے دائر کیے گئے تمام ٹیکس ریفرنسز کو مسترد کر دیا گیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ مقررہ وقت گزرنے کے بعد دائر تمام ٹیکس ریفرنس درخواستیں ناقابل سماعت ہیں، فیصلے کے مطابق مقررہ قانونی مدت ختم ہونے کے بعد دفتری اعتراضات کا خاتمہ درخواست کو قانونی نہیں بناتا اور سپریم کورٹ کے سابقہ نظائر کی روشنی میں نامکمل درخواستیں قانونی طور پر دائر شدہ تصور نہیں ہوں گی۔
لاہور ہائیکورٹ نے ایف بی آر اور دیگر تمام سرکاری اداروں کی تاخیر معافی کی متفرق درخواستیں خارج کر دیں، جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس منور اقبال ڈوگر پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ دفتری اعتراضات دور کرنے کی مہلت کو قانونی مدت میں توسیع نہیں سمجھا جا سکتا، سرکاری ادارے اور عام شہری قانون لمیٹیشن کے نفاذ میں بالکل برابر ہیں اور سرکاری محکموں یا ایف بی آر کو تاخیر کی بنیاد پر کوئی خاص یا امتیازی رعایت نہیں دی جا سکتی۔






