کراچی: ریسکیو ملازمین کے لیے تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دیتے ہوئے کنٹریکٹ ملازمین کی ملازمت میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق مشیر وزیراعلیٰ سندھ گیانچند ایسرانی کی زیر صدارت سندھ ایمرجنسی کونسل کا چھٹا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ریسکیو 1122 کی کارکردگی، مالی و انتظامی امور، ملازمین کی فلاح و بہبود اور نئے الاؤنسز سمیت اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس کے دوران ڈی جی ریسکیو 1122 بریگیڈیئر (ر) واجد صبغت اللہ مہر نے کونسل کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارے کے قیام سے لے کر اب تک 13 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد کو طبی امداد اور خدمات فراہم کی جا چکی ہیں، جبکہ مختلف حادثات کے دوران 5 ہزار 238 قیمتی جانیں بچائی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ ادارے کو روزانہ 10 ہزار سے زائد کالز موصول ہو رہی ہیں اور فی الوقت 149 گاڑیوں اور 1,723 اہلکاروں کی مدد سے ریسکیو خدمات سرانجام دی جا رہی ہیں۔
مشیر وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ اجلاس میں فائر سیفٹی آڈٹس اور اینٹی ریبیز مہم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ گزشتہ اجلاس کی کارروائی کی توثیق بھی کی گئی۔
اجلاس میں ریسکیو اہلکاروں کے لیے 3 کروڑ روپے کے شہدا پیکیج اور تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی گئی، جبکہ تمام کنٹریکٹ ملازمین کی ملازمت میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی۔
اجلاس میں ریسکیو ملازمین کی ہیلتھ انشورنس اور پنشن کے معاملے کو حتمی مشاورت کے بعد صوبائی کابینہ کو ارسال کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ الاؤنس کی منظوری کے لیے محکمہ خزانہ سندھ سے رجوع کرنے کا فیصلہ ہوا۔
اجلاس کے دوران کم کارکردگی دکھانے والے ملازمین کو سخت وارننگ بھی جاری کی گئی۔






