*کے پی میں گورنر راج کا آپشن موجود ہے لیکن غیر پسندیدہ عمل ہے، خواجہ آصف*
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا آپشن آئین میں ہمیشہ سے موجود ہے لیکن یہ غیر پسندیدہ عمل ہے۔
پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مارچ کے لیے شاید بھتہ کم وصول ہوا تھا اس لیے ایک ہفتہ آگے بڑھا دیا تاکہ مال اکٹھا ہو سکے، ہو سکتا ہے ہفتے بعد مارچ منسوخ کر کے مال کھا جائیں۔ بڑے بڑے نام ہیں فرمائشی گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔
اس سے قبل گورنر فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ صوبے میں گورنر راج کے لیے اعلیٰ سطح پر مشاورت ہوئی ہے اور پی ٹی آئی جلد لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کر دے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی، لاقانونیت اور کرپشن عروج پر ہے، یہ اسلام آباد پر چڑھائی کی باتیں کرتے ہیں لیکن صوبہ کون سنبھالے گا۔
واضح رہے پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو پشاور سے اسلام آباد لانگ مارچ مؤخر کر کے 4 اکتوبر سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔






