گلگت بلتستان اسمبلی میں عبوری بجٹ پیش کر دیا گیا ، جانئے تفصیلات

گلگت بلتستان اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے لیے تین ماہ پر مشتمل عبوری بجٹ پیش کر دیا گیا ہے۔ رکن اسمبلی محمد علی اختر نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی حکومت نے وفاق سے 258 ارب 95 کروڑ روپے کے وسائل کا مطالبہ کیا تھا، تاہم وفاق کی جانب سے گلگت بلتستان کے لیے 158 ارب 54 کروڑ 24 لاکھ 23 ہزار روپے کا بجٹ تخمینہ مقرر کیا گیا ہے۔

محمد علی اختر کے مطابق عبوری بجٹ کا مقصد نئے مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے اخراجات پورے کرنا ہے، جس کے لیے 20 ارب 47 کروڑ 83 لاکھ روپے کی منظوری تجویز کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 میں 12 ارب 23 کروڑ 92 لاکھ 47 ہزار روپے اضافی آمدن متوقع ہے، جبکہ غیر ٹیکس محصولات کی مد میں 6 ارب 9 کروڑ 80 لاکھ روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق نئے مالی سال میں غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 88 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ گندم سبسڈی کے لیے 15 ارب روپے جبکہ گندم کی فروخت سے 3 ارب روپے آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

عبوری بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز کے لیے 15 ارب 22 کروڑ 50 لاکھ روپے، سرکاری محکموں کے ضروری اخراجات کے لیے ایک ارب 38 کروڑ 57 لاکھ روپے جبکہ سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے وزیراعظم گرانٹ کی مد میں 27 کروڑ 57 لاکھ 85 ہزار روپے رکھنے کی تجویز شامل ہے۔

اس کے علاوہ ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ میں اضافے کے لیے 30 کروڑ روپے، ایمبولینسوں کی خریداری کے لیے 10 کروڑ روپے، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے 88 کروڑ روپے، برف ہٹانے والی مشینری کی خریداری کے لیے 77 کروڑ روپے اور ہیوی ڈرونز کی خریداری کے لیے 4 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ میں شہری ترقی کے لیے 43 کروڑ روپے، لوکل کونسلز اور میونسپل کمیٹیوں کے لیے 29 کروڑ 20 لاکھ روپے جبکہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے لیے 13 کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

بجٹ تقریر کے اختتام پر اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نے بجٹ پر بحث کے لیے اجلاس پرسوں تک ملتوی کر دیا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close