حکومت نے لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کی قیمتوں میں 16.17 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتوں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ملک کے دونوں بڑے گیس تقسیم کار اداروں کے صارفین کو مہنگی ایل این جی خریدنا پڑے گی۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق Sui Southern Gas Company کے سسٹم پر ایل این جی کی قیمت میں 2.59 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ Sui Northern Gas Pipelines Limited کے سسٹم پر قیمت میں 2.54 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے۔
نظرثانی کے بعد سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کے لیے ایل این جی کی نئی قیمت 19.52 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے، جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے لیے نئی قیمت 18.64 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کر دی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ ماہرین کے مطابق ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صنعتی شعبے، بجلی کی پیداوار اور بعض تجارتی صارفین کے اخراجات پر بھی پڑ سکتے ہیں، کیونکہ ایل این جی ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں توانائی کے شعبے کے مالی مسائل اور عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث توانائی کے نرخوں میں مسلسل تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






