عالمی بینک نے وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے موجودہ نظام این ایف سی ایوارڈ میں اصلاحات کی سفارش کی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق عالمی بینک نے پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کے حوالے سے جاری نئی رپورٹ میں وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے موجودہ نظام این ایف سی ایوارڈ میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان این ایف سی ایوارڈ کا ازسر نو جائزہ لیا جانا چاہیے، صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم میں بھی کارکردگی کو بنیادی معیار بنایا جائے۔
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ جوصوبہ زیادہ محصولات جمع کرے، اسے زیادہ وسائل ملنے چاہئیں تاکہ بہتر مالی نظم و نسق اور ٹیکس وصولیوں کی حوصلہ افزائی ہو۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں آئینی ترمیم پاکستان کی اہم اصلاحات تھیں، تاہم ان کے بعد وفاقی حکومت کے محصولات میں حصہ کم ہوا، لیکن اخراجات میں متناسب کمی نہیں آسکی، صوبوں کو منتقل کیے گئے کئی شعبوں کی متبادل وزارتیں وفاق میں بھی برقرار رہیں، جس سے وفاقی مالی خسارہ مسلسل بڑھتا رہا۔
عالمی بینک نے نشاندہی کی کہ صوبائی حکومتیں این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کے ثمرات موثر انداز میں عوام تک منتقل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ اضافی وسائل ملنے کے باوجود صوبوں نے ترقیاتی شعبوں کے بجائے انتظامی اور جاری اخراجات میں اضافہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق صوبائی محصولات کا تقریباً 80 فیصد انتظامی اخراجات پر خرچ ہو رہا ہے، جب کہ ماحولیات کے شعبے پر صرف ایک فیصد وسائل صرف کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح تعلیم، صحت عامہ اور عوامی خدمات جیسے اہم شعبے بھی خاطر خواہ توجہ حاصل نہیں کر سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






